26 جنوری 2015 - 06:56
اوباما کا دوسرا دورہ ہندوستان

امریکی صدر باراک اوباما دوسری مرتبہ ہندوستان کے دورے پر نئي دہلی پہنچے ہیں۔ اوباما امریکہ کے پہلے صدر ہیں جو اپنے دورہ صدارت میں ہندوستان کا دوبارہ دورہ کررہے ہیں۔ اوباما ہندوستان کے روز جمہوریہ کے جشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما دوسری مرتبہ ہندوستان کے دورے پر نئي دہلی پہنچے ہیں۔ اوباما امریکہ کے پہلے صدر ہیں جو اپنے دورہ صدارت میں ہندوستان کا دوبارہ دورہ کررہے ہیں۔ اوباما ہندوستان کے روز جمہوریہ کے جشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ ہندوستان میں چھبیس جنوری کو یوم جمہوریہ منایا جاتاہے۔ ان امور سے لگتا ہےکہ ہندوستان اور امریکہ نے اپنے تعلقات میں توسیع لانے کےلئے خصوصی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری مشرقی بلاک کا شیرازہ بکھرنے کےبعد سے ہی آنا شروع ہوگئی تھی جبکہ ہندوستان کو سرد جنگ کے دوران سابق سوویت یونین کا روایتی حلیف سمجھا جاتا تھا۔ ان برسوں میں ہندوستان نے صنعتی لحاظ سے ترقی کرنے کے لئے پہلے قدم اٹھائے تھے جن کےنتیجے میں دودہائیوں کے بعد ہندوستان نئي اقصادی طاقت کے طور پر ابھرا اور اسے چین اور روس کی صف میں گنا جانے لگا۔ ہندوستان کی آبادی ایک ارب ڈوسو ملین ہے اور یہ ملک اسی بنا پر نہایت عظیم منڈی شمار ہوتا ہے جس میں ہر مغربی ملک اپنی مصنوعات بھیجنے کا خواہشمند ہے۔ مغرب کی بحران زدہ معیشتوں کے لئے ہندوستان کی منڈی میں مصنوعات اور خدمات کی فروخت بے پناہ مالی نفع کا سبب بن سکتی ہے اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھی صنعتی اشیاء اور خدمات برآمد کرنے والا اہم ملک بن گيا ہے۔ ہندوستان کی ناخالص قومی پیداوار جو قوت خرید کے معیار پر مبنی ہے سات ٹریلین دوسوارب ڈالر کی ہے جس سے ہندوستان امریکہ اور چين کے بعد تیسرے مقام پر آچکا ہے۔ اقتصادی اعتبار سے مفید ہونے کے علاوہ ہندوستان چونکہ جنوبی ایشیا جیسے اسٹراٹیجیک علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے عالمی حالات میں اہم کردار کا حامل ہے۔ سیکڑوں ثقافتوں اور مذاہب کے حامل ہندوستان جیسے ملک میں سیاسی استحکام ایک نہایت ہی اہم امر ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ بحر ہند کے علاقے کے ملکوں جیسے پاکستان، افغانستان نیز انڈو چائناکے علاقے میں سکیورٹی کے لحاظ سے ہندوستان کے کردار کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی پوزیشن کی وجہ سے بڑی طاقتیں عالمی سطح پر مزید اثر انداز ہونے کے لئے ہندوستان سے اپنے تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کرتی ہیں۔ امریکہ کی نظر میں ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے سے عظیم اقتصادی مفادات کے علاوہ واشنگٹن کو ایشیا میں چین اور روس کی طاقت کو چیک کرنے کا موقع بھی مل جائے گا۔ اسی وجہ سے امریکہ نے چند برسوں قبل این پی ٹی معاہدے میں بیان کی گئي پابندیوں کے باوجود ہندوستان کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ہندوستانی معیشت کی تقریبا چھے فیصد سالانہ ترقی کی شرح کے پیش نظر ہندوستان کو انرجی کے ذخائر کی بے مسلسل ضرورت ہے اور امریکہ کی جانب سے ہندوستانی انرجی کی ضرورتوں کو پورا کرنا گویا آمدنی کے ایک یقینی ذریعے کو حاصل کرنا ہے۔ ہندوستان بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری لاکر اپنے سیاسی اور اقتصادی اھداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان نے گرچہ گذشتہ برسوں میں قابل توجہ اقتصادی ترقی کی ہے آج بھی کروڑوں ہندوستانی مکمل غربت میں زندگي گذار رہے ہیں۔ ہندوستانی حکام کوشش کررہے ہيں کہ زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرکے اقتصادی ترقی اور غربت ختم کرنے کے سنگين اخراجات کے لئے سرمایہ فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے یہ بھی امید لگا رکھی ہےکہ وہ اقتصادی ترقی کے طفیل علاقے میں سیاسی اور سکیورٹی لحاظ سے زیادہ کردار ادا کرسکے گا۔ ہندوستان کو اپنی شمالی سرحدوں پر چین کی بڑھتی ہوئي طاقت سے خوف لاحق ہے تو مغرب سرحدوں پر افغانستان اور پاکستان میں انتھا پسندی سے خطرے کا احساس کرتا ہے۔ ہندوستان کی سابقہ حکومتوں اور اب نریندر مودی کی نیشنلسٹ حکومت یہ توقع رکھتی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرکے ان خطروں میں سے بعض کامقابلہ کرسکے گي گرچہ ان میں بعض خطرے علاقے میں امریکہ کی غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہیں۔ امریکیوں کو بڑی اچھی طرح سے اس بات کا احساس ہے کہ ہندوستان کو اپنے علاقائي رقباء جیسے چین اور پاکستان کی جانب سے خطرے لاحق ہيں۔ اسی وجہ سے امریکہ ایک طرف سے ہندوستان کے ڈر میں اضافہ کرتے رہتے ہیں تو دوسری طرف سے ہندوستان میں اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ کی باہمی وابستگي اس بات کا سبب بنی ہےکہ صدر اوباما دوسری مرتبہ ہندوستان کے دورے پر آئيں اور ہدوستان نے اپنی مہمان نواز کا ثبوت دینے کےلئے انہیں یوم جمہوریہ میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی ہے۔

.....

/169